Shehr-e-Farhad شہرِ فرہاد by Abdul Hameed Adam (PDF)
شہرِ فرہاد - عبدالحمید عدمؔ عشق ہو رحم کے قابل مجھے منظور نہیں شہرِ فرہاد میں ایسا کوئی دستور نہیں {getButton} $text={Download} $icon={downl...
شہرِ فرہاد - عبدالحمید عدمؔ عشق ہو رحم کے قابل مجھے منظور نہیں شہرِ فرہاد میں ایسا کوئی دستور نہیں {getButton} $text={Download} $icon={downl...
رنگ و آہنگ - عبدالحمید عدمؔ سُونی راہوں میں جلنے والے ہیں ہم ترے شہر کے اُجالے ہیں کتنی جاں سوز ہیں تمنائیں کیسے رنگین سانپ پالے ہیں شیخ ان...
قصرِ شیریں - عبدالحمید عدمؔ قصرِ شیریں عدمؔ کی 164 غزلوں کا مجموعہ ہے۔ عدمؔ بنیادی طور پر ایک رندِ خرابات ہے۔ اور خمریات کا شاعر ہے۔ چھوٹی ...
پیچ و خم ۔ عبدالحمید عدم زندگی کی ضرورتیں مت پوچھ جبر کو اختیار کہتے ہیں - کہنگی ہے خزاں کی خاصیت تازگی کو بہار کہتے ہیں - آنکھ جب اُس کی اٹ...
خمِ اَبرو - عبدالحمید عدمؔ ہوئی تازہ تازہ جو اُن کی نظر مجھے میکدے سب پُرانے لگے - ستم گرو! کسی مرگِ حسیں کو دو آواز عدمّ حیات سے بیزار ہوتا...
چارۂ درد ۔ عبدالحمید عدمؔ ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیرِ دامنِ رنگیں چھپا کے لا {getButton} $text={Download} $icon={download}
عبدالحمید عدمؔ کا مجموعہ کلام "بطِ مے" پیالہ عدمؔ آنکھ ہے میکدے کی! صُراحی جواں آہوؤں کی نظر ہے - غم اگر دل کو راس آ جائے شادمانی ...
1۔ ذہن گلزار ہو گیا ہوگا باغباں یار ہو گیا ہوگا بات سرکار بن گئی ہوگی کام سرکار ہو گیا ہوگا پھول اس زلف سے جدا ہو کر سخت ...
ذہن گلزار ہو گیا ہوگا ۔ عبدالحمید عدم ذہن گلزار ہو گیا ہوگا باغباں یار ہو گیا ہوگا بات سرکار بن گئی ہوگی کام سرکار ہو گیا ہوگا پھول اس زلف س...